اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ یمن کی جماعتوں اور سیاسی گروہوں نے صدارتی کونسل کی ڈھانچے اور اس کے ارکان کی تعداد کے بارے میں اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم مستعفی صدر منصورہادی کے حامیوں نے ایسے کسی سمھجوتے کی تردید کی ہے۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق یمن کی جماعتوں اور گروہوں نے ہفتے کی رات صنعا میں یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جمال بن عمر کی موجودگی میں آئندہ ایک سال کے لئے ملک کا انتظام چلانے والی صدارتی کونسل کے ڈھانچے اور اس کے ارکان کی تعداد کے بارے میں حتمی اتفاق کرلیا ہے۔ ایک باخبر ذریعے نے اس بارے میں بتایا ہے کہ صدارتی کونسل کے ارکان کی تعداد پانچ ہو گی۔ ان میں سے ایک رکن اللقاء المشترک پارٹی، ایک رکن المؤتمر الشعبی پارٹی، ایک رکن انصار اللہ تحریک، ایک رکن الحراک الجنوبی پارٹی اور پانچواں رکن تمام فریقوں کی رضامندی کی صورت میں جنوبی یمن سے ہو گا۔ اس رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز بھی اس بارے میں ایک اجلاس ہو رہا ہے۔ یمن میں صدارتی کونسل کی تشکیل کی بات اس وقت سامنے آئی تھی جب صدر منصور ہادی اور وزیر اعظم خالد البحاح نے اپنے عہدوں سے استعفی دے دیا تھا۔ انصار اللہ تحریک بعض دیگر جماعتوں نے اس منصور ہادی اور خالد بحاح کے استعفے کو یمن میں غیرملکی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش قرار دیا-دوسری جانب مستعفی صدر منصورہادی سے تعلق رکھنےوالے بعض گروہوں نے اس سمجھوتے کی تردید کی ہے۔ ان گروہوں کا کہنا ہے کہ ابھی اس قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲